//whairtoa.com/4/5522501

عمران خان کس طرح وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر کام کررہا ہے؟

عمران خان

آپڈیٹ نیوز! پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعہ ”یوم تحفظ آئین پاکستان“کے طورپر منانے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کردیا ہے، تحریک انصاف کے نوجوانوں کو بھڑکایا جارہا ہے، آئمہ اور خطباء اپنے خطبوں میں عمران خان کی آئین شکنی پر بات کریں، حکومت کے غیر آئینی اقدامات سے منصفانہ انتخابات کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی،،

عمران خان وزیراعظم نہیں رہا، صدر مملکت نے زبانی احکامات پر کہا کام جاری رکھے،عمران خان کس طرح وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر کام کررہا ہے، عمران خان کیسے بیوروکریٹ کو بلا کر ہدایات دے رہا ہے، سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا جو درست اقدام ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جائے، تحریک عدم اعتماد کیلئے ووٹنگ کروائی جائے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک ڈکٹیٹر آئین کو اس طرح بے رحمی سے پامال نہیں کرتا جتنا کہ آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والا عمران خان نے حالیہ اقدامات کے ذریعے سے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کیا ہے،ضرورت اس مر کی ہے کہ پوری قوم وطن عزیز کے آئین کے تحفظ کیلئے بیدار ہو اور میں اپیل کرتا ہوں کہ آنے والا جمعہ ”یوم تحفظ آئین پاکستان“کے طورپر منایا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ آئمہ مساجد اور خطباء اپنے خطبات میں عمران خان کی آئین شکنی اور اس کی حکومت کی طرف سے

اس حوالے سے حال ہی میں کئے گئے اقدامات کی مذمت کریں۔انہوں نے کہاکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے بحران شروع ہوا اور اسمبلی کی تحلیل نے اس بحران کو مزید سنگین کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ملک میں انارکی کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں، تحریک انصاف کے کارکن نوجوانوں اور جمہوری قوتوں کو اشتعال دلا رہے ہیں کہ کسی طرح مزاحمت ہواور فسادات کے شعلے بھڑک اٹھیں اور اس طرح ملکی سلامتی کوداؤ پر لگایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان کو سبوتاژ کیا گیا ور اگر آئین نہیں رہتا اور آئین کے ساتھ اس طرح کھلواڑ کیا جاتاہے اس کی اہمیت اور توقیر کو خاک میں ملایا جاتا ہے تو پھر صاف ظاہر پاکستان کا وجود ایک سوالیہ نشان بن جائیگا اور اس کیلئے پاکستانی قوم کو ایک آوراز بن کر اٹھنا پڑیگا۔انہوں نے کہاکہ ملکی وحدت، پارلیمان اور اس کی بالا دستی،

جمہوریت یہ پاکستان کی نظریاتی بنیادیں ہیں جنہیں ہلا کر رکھ دیا گیا ہے، آئین کی اسلامی دفعات، عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ، ناموس رسالت کا تحفظ، پاکستان کی نظریاتی شناخت ہے جو ان کے نشانہ پر ہے اس لئے انتہائی ضروری ہوگیا ہے کہ قوم بیدار ہو، جمعہ کو یوم احتجاج منائیں،کارکن اور عوام ملکر ریلیاں نکالیں اور اس غیر جمہوری اور غیر اخلاقی اقدام کی نفی کریں اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے اداورں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے تحفظ کیلئے اپنا کر دارادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی ہو، اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کے فرائض کی ذمہ داری اور پارلیمنٹ کا دائرہ کار جو آئین متعین کر تا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنا کر دار اس دائرہ کے اندر رہ کر کریں۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے یہ درست اقدام ہے،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا جائے

اراکین کو اپنے اعتماد کا ووٹ استعمال کر نے کا حق دیا جائے نئے وزیراعظم کا انتخاب کا حق دیا جائے اور پھر آئین کے تحت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے وہی آئندہ الیکشن کا تاریخ دے اور اس کا شیڈول دے اس نام نہاد حکومت کے غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے اندر منصفانہ انتخابات کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ہے،دھاندلی کی پیداوار حکومت ایک بار پھر دھاندلی کی کوکھ سے نئی حکومت جنم لینا چاہتی ہے تعجب کی بات ہے کابینہ ڈویژن نوٹیفکیشن جاری کر چکی ہے وہ ملک کا وزیر اعظم نہیں،صدر مملکت زبانی کہتا ہے وہ وہ کام جاری رکھے اور اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن نہیں اور اب ہوبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ کورٹ کہہ چکی ہے اس کے فیصلے کے بغیر کوئی اقدامات نہیں کیا جاچکاہے اس کے باوجود کس طرح پرائم منسٹر ہاؤس کو استعمال کر سکتا ہے، وسائل استعمال کررہے ہیں، بیورو کریٹ کو اپنے گھر بلا رہاہے،

اس نے پاکستان کے خزانہ کو مال غنیمت سمجھ لیا ہے اتنا آسان نہیں کہ آپ کو ہضم کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ دن آنے والے جب یہ بات صاف ہوجائیگی کہ یہ پیالی میں طوفان کے مصداق ہے،یہ خط اور مندرجات سب جھوٹ ہے،سیکیورٹی کمیٹی نے کہہ دیا ہے کہ سازش کا کوئی ذکر نہیں،یہ خط اور لہرانے والے دونوں انجام کو پہنچیں گے۔ صحافی نے سوال کیاکہ کیا اپوزیشن کے مطالبے پر سیکیورٹی اداروں نے آپ لوگوں سے رابطہ کرکے یا ملاقات کرکے اپنی پوزیشن واضح کی ہے یا نہیں،حکومت نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا موقف سپریم کورٹ میں پیش کردیا ہےجس میں انہوں نے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کی تائید کی ہے،سیکیورٹی ادارے کس طرح وضاحت کریں کہ اپوزیشن کی تسلی ہوجائے۔ مولانا فضل الرحمن نے جواب دیاکہ ایک چینل پر سیکیورٹی اداروں کا لیٹر چل چکا ہے کہ اس معاملے میں سازش کا کوئی عنصر نہیں تھا۔

صحافی نے سوال کیاکہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آتا ہے قبول ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سپریم کورٹ کا نظریہ ضرورت کا نہیں نظریہ جمہوریت کا فیصلہ ہی قبول ہوگا۔ صحافی نے سوال کیاکہ کیا سیاست اور جنات کے تعلق پر روشنی ڈالیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کاہکہ جنات خود ناکام ہوگئے تو اب حکومت کیسے چلوائیں گے۔انہوں نے کہاکہ مجھے جادو ٹونہ نہیں آتا،اللہ نے انسان اور جنات کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا،جنات خدا کی مخلوق ہے، پہلے خلافت اس کے پاس تھی اسے سزا ملی،آج وہ ہماری حکومت چلائیں گے،جو انسان جنات سے رہنمائی لیتا ہے وہ جنات سے بھی بدتر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں