//whairtoa.com/4/5522501

کیا بچوں کی خاطر مجبوری میں حلالہ جائز ہے اگر آپ کو نہیں پتا تو جانیے اس آرٹیکل میں

حلالہ

علمی سپاٹ ! بچوں کی خاطر مجبوری میں حلالہ جائز ہے؟ شاید ان کا مطلب یہ ہے کہ خاتون کو تین ط ل ا قیں ہو ئیں تین طلاق ہوجانے کی صورت میں شوہر کے پاس دوبارہ نکاح کرکے جانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دوسرے کسی مرد سے نکاح ہو، یہ مرد ہمبستری کرے بعد اس کے کسی وجہ سے طلاق دیدے۔ یا ناگاہ وفات پاجائے تو عورت دوبارہ اپنی عدت پوری کرنے کے بعد اگر پہلے شوہر سے نکاح جدید کرنا چاہے تو کرسکتی ہے، اسی کو حلالہ شرعیہ کہتے ہیں

جس میں دوسرے شوہر کا قربت کرنا ضروری ہے حلالہ کا حکم اس صورت میں ہے جب کہ شوہر بیوی کو تین طلاق دیدے اور بیوی پھر اسی شوہر کے پاس جانا چاہیے، حلالہ کی صورت یہ ہوتی ہے۔ کہ عورت عدت طلاق گذارکر دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہ مرد اس سے صحبت کے بعد بخوشی طلاق دیدے یا وفات پاجائے، پھر عورت عدت گذارے عدت گذارلینے کے بعد وہ دوبارہ اپنے سابق شوہر سے نکاح کرسکتی ہے، نکاح کے وقت یہ شرط لگانا میں تجھ سے حلالہ کی شرط پر نکاح کرتا ہوں ناجائز ہے، البتہ اگر دل میں یہ ارادہ ہو توگ ن ا ہ نہیں ہے، حلالہ میں عورت سے صحبت ضروری ہے، ورنہ حلالہ کا تحقق نہ ہوگا، حدیث شریف میں اس کی صراحت مذکور ہے۔ حلالہ کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے، کیوں کہ میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ حلالہ کرنے اورکروانے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے؟ (۲) اگر تین طلاقیں دی جائیں اوراسی مہینہ کے دوران شوہر رجوع کرلےکیا طلاق واقع ہوجائے گی؟

کیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور ِ خلافت سے پہلے اکٹھی تین طلاق کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا؟ (۳)حلالہ اور متعہ میں کیا فرق ہے۔ اگر دونوں میں کچھ وقت کے لیے رشتہ ازدواج مقصود ہو اور اس رشتہ کے بعد میاں اوربیوی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں؟ از راہ مہربانی جواب دے کر مشکور فرمائیں۔ جواب: حلالہ کا مسئلہ عصر پیغمبر سے ہی شروع ہوا جس کی وجہ سے قرآن کی آیت بھی نازل ہوئی اور اس سلسلے میں پیغمبر اکرم (ص) نے احادیث بھی ارشاد فرمائیں۔اسلام میں حلالہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کو جب تین طلاق دے دئے جائیں تو اس کے بعد اس کی طرف رجوع نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کہ وہ عورت اپنی مرضی سے کسی دوسرے مرد سے شادی کرے اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہمبستری کرے اور یہ مرد اپنی مرضی سے بغیر کسی کے دباو کے اس عورت کو طلاق دے دے یا وہ عورت اپنے اختیار سے طلاق لے لے

اس کے بعد سابقہ شوہر اس عورت کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۳۰ میں اس بارے میں حکم دیا گیا یعنی اگر شوہر نے عورت کو تین طلاق دے دئے تو اسکے بعد وہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہو گی جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اس صورت میں پہلے شوہر کے اس کی طرف رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں