//whairtoa.com/4/5522501

بے شک انسان کو قبر میں اس کی اولاد کی نیکی کی خبر دی جاتی ہے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں

قبر

ارشاد باری تعالی ہے بے شک انسان کو قبر میں اس کی اولاد کی نیکی کی خبر دی جاتی ہے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک آدمی کا جنت میں اللہ تعالی ایک درجہ بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ مجھے یہ درجہ کیوں ملا تو اللہ تعالی فرماتے ہیں

تیری اولاد نے تیرے لیے مغفرت کی دعا کی ہے اس لیے ہمیں اپنے والدین کے حق میں دعا کرتے رہنا چاہیے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں والدین کی قدر نصیب فرما اور ان کی بہترین اولاد میں شمار فرما آمین، حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا! سات ایسے اشخاص ہیں جنہیں تم قبر میں دفن کرو گے تو ان کے رخ قبلہ سے پھیر دیے جائیں گے، ساتھ ہی فرمایا کہ جاؤ جا کر قبریں اکھیڑ کر دیکھ لو اگر ایسا نہ پاؤ کہ جیسا میں نے کہا تھا تو کہہ دینا میں نے غلط کہا تھا۔ عرض کی حضورؐ یہ کون لوگ ہیں جن کے رخ قبلہ سے پھیر دیے جائیں گے؟

حضورؐ نے ارشاد فرمایا! پہلا شارب الخمر یعنی شراب پینے والا، شراب پِلانے والا، شراب بیچنے والا، شراب خریدنے والا یاشراب کو منتقل کرنے والا ان سب پر اللہ کے رسولؐ نے لعنت بھیجی ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے شراب پینے والا بت پوجنے والے کی طرح ہے۔ شرابی جب مرتا ہے اسے مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا اور دوسرا یہ کہ اس کا قبلہ سے رخ پھیر دیا جاتا ہے۔ نمبر دو: انسانوں کی خرید و فروخت کرنے والا، یعنی وہ افراد جو انسانی اعضاء یا مکمل انسان کی خرید و فروخت کرے اس کا رخ بھی مرنے کے بعد قبر میں قبلہ سے پھیر دیا جاتا ہے نمبر تین جھوٹی گواہی دینے والا۔ نمبر چار سود کھانے

والا، سود دینا، سود لینا اور سود لکھنا یہ سب اس میں شامل ہیں۔ سودی لین دین کے گناہ کے 70 درجے ہیں اور سب سے کم درجہ اپنی ماں سے زنا کرنے کے برابر ہے۔ ایسا شخص جو سودی لین دین کرتا ہو موت کے بعد قبر میں اس کا رخ بھی قبلہ سے پھیر دیا جائے گا۔نمبر پانچ: کسی کی فوتگی پر نوحے کرنے والی عورت، آنکھوں کا غم اور دل کا غم اللہ کی طرف سے ہے لیکن ہاتھوں کا اور زبان کا غم شیطان کی طرف سے ہے، ایک روایت میں آیا ہے جس نے گریبان نوچے، اپنے منہ پر تھپڑ مارے اور جاہلوں جیسی باتیں کیں اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، اسی لئے جب دل غمزدہ ہو تو آنکھوں سے روئیں اس سے شریعت نے منع نہیں کیا

لیکن واویلا کرنا اور الٹی سیدھی بک بک کرنا یہ کفریہ کلمات ہیں اسی لئے فرمایا نوحے کرنے والی عورت جب قبر میں دفن ہوگی تو اس کا رخ بھی قبلہ سے پھیر دیا جائے گا۔ نمبر چھ: جو شخص ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، ذخیرہ اندوزی انسانوں کی خوراک اور جانوروں کے چارے وغیرہ کو کہتے ہیں، شریعت نے اس سےمنع

فرمایا ہے۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے 40 دن تک ذخیرہ اندوزی کی، اللہ تعالیٰ اسے چالیس ہزار سال تک جہنم کی آگ میں جلائے گا۔ تو ایسے افراد جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ان کے رخ بھی قبر میں قبلہ سے پھیر دیے جائیں گے۔ نمبر سات: جو شخص نماز تو پڑھتا ہے مگر جماعت سے نہیں پڑھتا۔نیکی کی بات کو پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں